Urdu Shayari


 وفا کے قید خانوں میں

سزائیں کب بدلتی ہیں

بدلتا دل کا موسم ہے

ہوائیں کب بدلتی ہیں

میری ساری دعائیں

تم سے ہی منسوب ہیں ھمدم

محبت ہو اگر سچی

دعائیں کب بدلتی ہیں

کوئی پاکر نبھاتا ہے،

کوئی کھو کر نبھاتا ہے

نئے انداز ہوتے ہیں

.وفائیں کب بدلتی ىیں

: *ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے*

*کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے*


*اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک؟؟*

*ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے*


*میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش*

*آئے میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے*

*اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو!!*

*وقت ہی کتنا ہوا ہے مرا سپنا ٹوٹے*


*پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئی*

*ہم کسی بات پہ اس درجہ انوکھا ٹوٹے*

*ورنہ کب تک لیے پھرتا رہوں اس کو جواد*

*کوئی صورت ہو کہ امید سے رشتہ ٹوٹے*


: مجھ سے اونچا ترا قد ہے، حد ہے

پھر بھی سینے میں حسد ہے؟ حد ہے


میرے تو لفظ بھی کوڑی کے نہیں

تیرا نقطہ بھی سند ہے، حد ہے

تیری ہر بات ہے سر آنکھوں پر

میری ہر بات ہی رد ہے، حد ہے


عشق میری ہی تمنا تو نہیں

تیری نیت بھی تو بد ہے، حد ہے

زندگی کو ہے ضرورت میری

اور ضرورت بھی اشد ہے، حد ہے


بے تحاشہ ہیں ستارے لیکن

چاند بس ایک عدد ہے، حد ہے


اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا

یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے

5

روک سکتے ہو تو روکو جاذلؔ

یہ جو سانسوں کی رسد ہے، حد ہیں*اے پاک پروردگار ہماری خطاؤں کو اپنی رحمت کے صدقے معاف فرما*

*ہم کو صحت وایمان والی زندگی عطا فرما*

*ہماری مدد فرما کیونکہ ہماری زندگی کے بارے میں تیرے فیصلے ہماری خواہشوں سے بہتر ہیں*

*ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما لے جنهیں تو ہدایت فرماتا ہے اور وہ صراط مستقیم پر چلتے ہیں جو توبه کرتے ہیں اور جنکی توبه کو تو قبول کرتا ہے*

*آمِين يَارَبَّ العَالَمِين* 🙏🏻

5

 *ایسا کوئی بھی شخص، دل کا مکیں نہ ہو*

*جو ہر جگہ پہ ہوتے ہوئے بھی کہیں نہ ہو*


*حسرت سے سوچتے ہیں تجھے دیکھ کر یہ ہم* 

*بندہ وفا پرست ہو، چاہے حسیں نہ ہو*

 *اظہارِ عشق میں جو تحریر بھیجی ٬ رَد ہوگئی🍁*

*میں پھر بھی اسکی راہ تکوں؟ مطلب حَد ہوگئی🍁*

*سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں*

*سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں*

*سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے*

*سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں*


*سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی*

*سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں*


*سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف*

*سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں*

5

*سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں*

*یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں*


*سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے*

*ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں*


*سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے* 

*رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں*


احمد فراز

 *کون ہے پرســان حـال میـرا*

*زندہ رہنــا ہـــے کمـال  میـرا*


*تو نہیں تو تیرا خیـال سہی*

*کوئی تو ہے ہم خیـال  میـرا*

*اے وقت ذرا تھـم جا، یہ کیسی روانی ہے*

*آنکھوں میں ابھی باقی اک خواب جوانی ہے*

5

*کیـا قـصہ سنـائیں ہم اس عمر گـریزاں کا*

*فرصت ہے بہت تھوڑی اور لمبی کہانی ہے*


*اک راز ہے سینے میں، رکھـا نہیں جاتا اب*

*آ کـر کبھـی سـن جـاؤ اک بات پـرانـی ہـے*


*سچے تھے تِرے وعدے، سچے ہیں بہانے بھی* 

*بس ہم کو شکایت کی عادت ہی پرانی ہے*


*جو کچھ بھی کہا تم نے، تم کو ہی خبر ہوگی* 

*ہم نے تو سنا جـو کچـھ دنیا کی زبانی ہے*


*گـزری جـو بنـا تیـرے اُس عمـر کا افسـانہ*

*ہونٹوں کی خموشی ہے، آنکھوں کا یہ پانی ہے*


*اے یاد شب الفت! کچھ اور تھپک مجھ کو*

*پلکوں پر ابھی باقی دن بھر کی گرانی ہے*


*امید کی خوشبو ہے، یادوں کے دیئے روشن*

*ہـر وقـت تصـور میـں اک شـام سہانی ہے*

[8/20, 4:15 PM] null: *ذرا ذرا سمیٹ کر بنایا ہے میں نے خود کو*

*مجھ سے یہ نہ کہنا بہت ملیں گے تمہارے جیسے🫶*

[8/21, 6:53 AM] null: *_وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضىٰ-_*

[8/21, 6:51 PM] null: *اے چـارہ گر ، تو کـوئی ، چــارہ تو کر* 

*بےوفائـی ہـی سہـی ، تو دوبــارہ تو کر*


*پہلے بھـی مر مٹـے تھے پھر مریـں گــے* 

*تـو آزمـا تو سہـی ، کـوئی اشـارہ تو کر*


*کیـوں مخمصـے میـں رکھـا ہے خـود کو* 

*نہیـں سـاتھ چلنـا نہ چـل ، کنـارہ تو کر*


*ہـونا ہـے جـس کا بھی ، اب ہــو بھـی جا* 

*ہمارا نہ بن ،اپنا تو کسی کو خدارا تو کر*

[8/22, 6:57 AM] null: *رَبَّنَـآ ءَاتِنَـا فِى الدُّنيَـا حَسَنَةً وَفِى الأَخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّـارِ✨*

[8/22, 10:25 PM] null: *کبھــی غمــوں کا ســبب تھا میــاں اکیــلا پــن*

*پــر اب ہـــجوم میــں رہ کـــر اُداس رہتــے ہیـں*


*خـدا ہــی جــانے ہمیـں کــون ســی اذیّــت ہــے*

*سبھی کو "خوش رہو" کہہ کر، اُداس رہتے ہیں*

[8/23, 4:49 AM] null: *اُسے دیکھنے کی جو لَو لگی، تو نصِیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم*

*وہ ہزار آنکھ سے دُور ہو، وہ ہزار پردہ نَشِیں سہی*

[8/23, 12:37 PM] null: *ہمیـں بـڑوں کـے سـکـھائے سبـق نـے مـارا ہـے*

*ہمـارے صبـر کـے بـدلے میـں پھـل نہیـں ہـوتـا*  


*تمہیں جو حـال سـنائیں، تو کـس لیـے، اے مسیحا!!*

*تمہـارے پـاس بھـی الجـھن کا حـل نہیـں ہـوتـا*

[8/23, 12:39 PM] null: *خود کو ماہر کہتے ہـو نا پـڑھنے میں!!*


*تو بتاؤ!! میری آنکھیں کیا کہتی ہیں؟*

[8/24, 5:37 AM] null: *میرے ساتھ رقص کر؛ تاکہ میں فخر کرسکوں کہ کائنات میرے گرد گھومتی ہے!!!!*

[8/24, 2:04 PM] null: *قصــے میـری الفـت کــے جـو مـرقـوم ہیـں ســارے*

*آ دیکــھ تیـرے نـام ســے مـوسـوم ہیـں سـارے*


*شـایـد یـہ ظـرف ہــے جـو خـامـوش ہـوں اب تـک* 

*ورنہ تــو تیـرے عیـب بھـی مـعـلـوم ہیـں ســارے*


*ہـر جــرم میـری ذات ســے منســـوب ہــے محســـن*

*کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے*


*محسن نقوی*

*میـں نفـرتــوں کــے ســب اســلوب جـانتـی ہـوں*

*علـم ہـے کـہ دل رکـھ کــے خفـا کیسـے کرتے ہیں*


*تـم جـو گـرمی دیکـھ کـر چـائے چـھوڑ جـانے والے* 

*ہمیــں سکھـاؤ گــے؟ کـہ وفــا کیسـے کـرتے ہیں!!*

*میں ایسے شخص کی معصومیت پہ کیا لکھوں* 

*جو مجھ کو اپنی خطاؤں میں بھی، بھلا ہی لگا*


*نـہ میرے لطـف پر حیراں، نـہ اپنی الجـھن پر*

*مجھے یہ شخص تو ہر شخص سے جدا ہی لگا

: *اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا* 

*مجھ سے دور ہو تو خود کو سنبھالے رکھنا*


*لوگ پوچھیں گــے کـیوں پریشــان ہو تم؟؟*

*کچھ نگاہوں سے کہنا، زبان پہ مگر تالے رکھنا*

*تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جـا سکتـے ہـو*

*تــم مجھــے وقـتـاً چـھـوڑ کــے جـا سکتـے ہـو*


*ہـم درخـتوں کـو کہـاں آتـا ہــے ہجرت کـرنا* 

*تم پرندے ہو چمن چـھـوڑ کــے جـا سکتـے ہـو*

*ٹوٹ جائیں تو کب کھنکتی ہیں........*

*لڑکیاں بھی چوڑیوں جیسی ہوتی ہیں*

*وہ شکوے جو میں نے کیے ہی نہیں*

*ساری زندگی قرض رہیں گے تم پر*


*کبھی دلبر، کبھی دشمن، کبھی دلدار ہو جانا*

*کہاں سے تم نے سیکھا ہے؛ بڑا اداکار  ہو جانا*


*کبھی مل کر رقیبوں سے؛ ہمارے حال پہ  ہنسنا*

*کبھی میری مُحَبت میں؛ گُل و گُلزار  ہو جانا*

شور اب اٹھے گا پھر میرے نقطہ چینوں میں 

شعر اس نے لکھے ہیں منفرد زمینوں میں


ان کو میں نچاؤں گا ہاتھ کے اشاروں پر

یہ جو سانپ رہتے ہیں میری آستینوں میں


عمر بھر کے وعدے تھے، سارے ہی بھلا دیے؟

آپ تو بدل گئے چند ہی مہینوں میں


نام میرا چلتا ہے علم و فن کی دنیا میں

ذکر میرا ہوتا ہے شہر کے حسینوں میں

*میرا سوچنا تیری ذات تک..!!*

*میری گفتگو تیری بات تک..!!*


*نہ تم ملو جو کبھی مجھے..!!*

*میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک..!!

*کبھی فرصتیں جو ملیں تو آ..!!*

*میری زندگی کے حصار تک..!!*


*میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں...!!*

*تیرے پہلے سے تیرے بعد تک...!!✨*

*کسی نے پوچھا کہ کیسے ہو؟* 

*زندگی میں غم ہیں

، غم میں درد ہے

، درد میں مزا ہے

اور مزے میں ہم ہیں!!*


*آپ ایک خوبصورت خواب ہو 

جس کو ہر روز دیکھنے کی تمنا ہوتی ہو🙂🫠*

یہ جو اپنے ہوتے ہیں یار.....* 

*یہ اپنے کیوں نہیں ہوتے❤️‍🩹*


*کچھ لوگ تمہارے ساتھ صرف تب تک ہوتے ہیں جب تک ان کے پاس کوئی اور نہیں ہوتا*


[ *_لوگ یہاں کے کالے بچھو_*

*_پل پل ڈسنے والے بچھو_*

*_تھا معلوم کے ڈس لیں گے_*

*_پھر بھی شوق سے پالے بچھو_*


[*اُس ســے کــروں بـھــی؛ تـــو کـیـا مـــلال کـــروں*

*اس نــے کبھـی؛ اعــلان عشــق بھــی تــو نہیــں کیا*


*اســے پـانے کـی خـواہـش؛ تــو صـرف میری تھی*

*میرا ہو جانے کا تو؛ اس نے کبھی ذکر بھی نہیں کیا*

*مجھے پہلـے پہل لگتا تھا ذاتـی مسئـلہ ہے*


*میں پھر سمجھی محبت کائناتی مسئـلہ ہے*


*پـرنـدے قید ہیں تـم چہچہاہـٹ چاہتـے ہو* 


*تمہیں تو اچھـا خاصا نفسیاتی مسئـلہ ہے*

*منہ پہ مٹھاس، پیٹھ پیچھے بکواس*

*یہی تو ہے منافقوں کی اوقات 🔥*

*بہت بری ہوں برائی سے اجتناب کیجئے*

*آپ فرشتے ہیں آسمانوں پر رہائش کیجئے*

*اُس نے محسوس بھی نہ ہونے دیا*



No comments

Powered by Blogger.