Urdu Storie
ایک گاؤں میں ایک اجنبی شخص آیا اور اس نے علان کردیا کہ وہ گاؤں سے والوں 10 روپیہ میں ایک بندر 🐒 خریدے گا اس گاؤں کے ارد گرد بہت زیادہ بندر تھے ۔ دہیاتی بہت خوش ہوئے انہوں نے بندر پکڑانا شروع کر دیں ۔ اس اجنبی آدمی نے گاؤں والوں سے 10 10 روپیہ 1000 بندر 🐒 خریدے لیے ۔ اب گاؤں میں بندروں کی تعداد کم ہو گئی تھی بس چند ایک بندر بچے تھے جنہیں پکڑنا بہت دشوار ہوگیا تھا ۔ اب اس آدمی نے علان کیا کے وہ بندر 20 20 روپیہ میں خریدے گا ۔ یہ بات سن کر دہیاتیوں ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا ہو گیا ایک بار پھر انہوں نے پوری قوت سے بندر 🐒 پکڑنا شروع کیے۔ چند دن بعد بندر کی تعداد کم ہو گئی ایک دو بندر نظر آتے اور اس نئے آنے والے اجنبی شخص کے پاس 1300بندر 🐒 پنجرے میں جما ہو چکے تھے ۔جب تاجر نے بندر کی خریداری میں سستی دیکھی تو اس نے فی بندر کی قیمت 25 مقرر کی پھر اگلے دن 50 روپیے کر دی ۔ اس قیمت میں صرف اس نے 9 بندر خریدے ۔ اب جو بندر 🐒 بھی گاؤں والوں کی نظر میں فنا فلا کر دیا جاتا اس کے بعد وہ اجنبی شخص کسی کام سے وہ شہر چلا گیا اس نے اپنا کام اپنے اسسٹنٹ کو دے دیا ۔اسسٹنٹ نے اس کی غیر موجودگی میں گاؤں والوں کو بلایا اور کہا گاؤں والوں اس پنجرے میں 1450 بندر 🐒 ہیں جو استاد نے جمع کیے ہیں میں ایسا کرتا ہوں یہ سارے بندر 🐒 35 روپیے کے حساب سے آپ کو بیچ دیتا ہوں جب استاد آئے تو آپ اس کو 50 روپیے میں بندر بیچ دینا پھر کیا دہیاتی لوگ خوش ہوگئے انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی سے وہ بندر 🐒 خرید لیے ۔اس کے بعد انہوں نے نا تاجر کو دیکھ نہ اس کے اسسٹنٹ کو دیکھ بس ھر جگہ بندر 🐒 ہی بندر تھے
اسے کہتے ہیں اسٹاک مارکیٹ 😂😂😂😂


Post a Comment