Sohag Rat stories
میرا نام سلمان ہیں اور میں کراچی کا رہنے والا ہوں میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں ۔ اور میں فاسٹ یرمیں پڑ رہا تھا اور میری امی انتقال پا گئی اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ابو فالج کی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے مجھے پڑھائی چھوڑنی پڑی اور ابو کی دیکھ بھال کرنے لگا کیونکہ ایسے تو گوزارا نہیں چلنے والا کیونکہ اب ہمارا کمانے والا کوئی نہیں تہا ابو ہی تھا کمانے والا وھ بھی بیماری میں مبتلا تھے اور میں ان اکیلے چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا. اور کچھ دن گزرے۔ میرا رشتہ پہلے سے میری خالہ کی بیٹی سے ہوا ہویا تھا اور وہ یتیم تھی ۔یہ رشتا میری ماں نے کیا تھا ۔میری منگیتر کا نام اقرا تھا وہ بہت خوبصورت تھی گورا رنگ اور موٹے موٹے مممے بہت کمال کی تھی ۔وہ 3 بہنیں تھی اقرا فرحانہ رابیعہ ۔سب سے بڑی اقرا تھی جو میری منگیتر تھی ۔اقرا کی عمر 23 سال تھی اور میری 26 تھی ۔اور کچھ دنوں کے باد میری شادی ہوئی آج میری سوھاگ رات تھی میں اقرا کو دیکھنے کیلیے بہت اکسئیٹڈ تھا ۔خیر رات ہوئی میں اندر گیا کمرے میں اور سب سے پہلے اقرا کو ہی دیکھا کیا کمال کی لگ رہی تھی لال سوٹ میں اور اس کے ساتھ اس کی 2 بہنیں اور کچھ سہیلیاں تھی ۔انہوں مجھے دیکھ کر باہر چلی گئی سب ۔ خیر میں اقرا کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا۔سلام کیا بس ایک منٹ ہی نہیں گزرا تھا کہ میری سالی فرحانہ دودھ لے کہ آگئی آدھا دودھ میں نے پیا اور آدھا اقرا نے فرحانہ چلی گئی ۔میں نے دروازہ بند کیا اور میں اقرا کے پاس آگیا اقرا بہت شرما رہی تھی ۔میں نے گھونگھٹ اٹھایا اور دیکھا وھ بہت کمال کی لگ رہی تھی میں نے اس کے زیورات اتارے ۔اور اس کیا ہونٹوں پر پیار کرنے لگا میرے سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا میں اس کے بوبس دبانے لگ گیا اور کسنگ کرنے لگا ہم دونو بہت گرم ہوگئے میں نے اپنے سارے کپڑے اترے اس کے کی کمیض بلیزر سب کچھ اتار دیا نگا کردیا میں اس کی میں انگلی سے رگڑتا اور بوبس پر پیار کرتا جب اس کا فل مو ڈ بن گیا پھر میں نے اپنا اوزار اس کی پھدی آہستہ آہستہ ڈالنے لگا اس کو درد ہونے لگا مجھے مزا آنے لگا کچھ دیر آندر باہر کرنے کہ باد میں فارغ ہو گیا اور وہ رو رہی تھی میں نے ایک ٹیشوں لیا اور اپنے اوزار کو صاف کیا ٹیشوں پر ہلکے ہلکے خون کے داغ لگ گئے اکسر دوست کہتے تھے کہ جو لڑکی ورژن ہوتی ہیں اس کی سیل ٹوٹنے پر خون نکلتا ہیں ۔بس وہی چیک کر رہا تھا۔بس پوری رات اس کو سونے نہیں دیا اس چودتا رہا
۔Next part kayliye comment kare


Post a Comment