ایک بیوہ عورت کی کہانی

                    یہ ایک سچی سٹوری ہیں۔

ایک بیوہ عورت تھی اس کا ایک بیٹا بھی تھا ایک سال کا ۔اس  عورت کے لیے ایک رشتا آیا ۔اور اس عورت نے رشتے کے لیے ہاں  کر دی لیکن ایک شرط رکھی کہ میرا ایک سال کا بیٹاں ہیں میں اسے اپنے ساتھ لے کے جاؤں گی اور تم اسے اوسے اپنے بیٹے کی  طرح پرورش کرو گے۔لڑکے نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ رکھ سکتی ہوں اور میں اس کی اپنے بیٹے کی طرح پرورش کروگا۔خیر شادی ہوگئی ۔ان میاں بیوی کے خوش گوار دن گزر رہے تھے ۔لڑکا اس عورت کے بیٹے کو اپنے بیٹے کی طرح پیار اور پرورش کر رہا تھا ۔ایسے ہی کچھ دن پھر کچھ سال گزر جانے کے باد ان کے گھر ایک بیٹا ہوا ۔پھر کیا جب اس کا اپنا بیٹا ہوا تو اپنے بیٹے سے زیادہ پیار کرنے لگ گیا ۔اس کے بیٹے سے کم اپنے بیٹے کو پراویٹ سکول میں اس کے سرکاری سکول میں اپنے بیٹے کے لیے 2ماہ یا 3ماہ بعد کپڑے جوتے لیے آتا ۔اس کے بیٹے کے لیے سال بعد کپڑے لیے ۔اس عورت کو برا تو لگتا تھا لیکن وہ مجبور تھی ۔ایک دن اس بیوہ عورت کا گھر والا اپنے بیٹے کے لیے سائیکل لے کے آیا اور اس عورت کے بیٹے کے لیے نہیں لے کے آیا ۔اس عورت کہا آپ اپنے بیٹے کے لیے سائیکل لے کے آئے میرے بیٹے کے لیے کیوں نہیں ۔اس آدمی نے کہا یہ میرا بیٹا توڑی ہیں میں اس کو پال رہا اتنا ہی کافی ہیں ۔اس عورت نے کہا مانا کے یہ تیرا خون نہیں لیکن تمھے احساس نہیں ۔اس آدمی نے کہا میں اب اس لڑکے کو اپنے گھر اور نہیں رکھ سکتا ۔اس عورت نے کہا کہ میرا بیٹا کہا رہے گا ۔اس عورت کا بیٹا یہ سب باتیں سن رہا تھا اس نے اپنی ماں سے کہا امی میں جا رہا ہوں ۔اس کی ماں نے کہا تم بیٹا کہا رہوں گے اور کہا سے کھاؤں گے ۔بیٹے نے کہا امی میں کہی بھی رہ لو گا اور کچھ بھی کھاہ لوں گا یہ کہہ کر چلا گیا۔اس کی ماں پریشان تہی کہا رہے گا میرا بیٹا اور کہا سے کھائے گا ۔خیر اس نے اوپر کی طرف دیکھ کر کہا اے میرے اللّٰہ میں اپنا بیٹا تیرے سپرد کر رہی ہوں اب تو ہی اس کا وسیلہ ہیں ۔پھر کچھ سالوں باد واہ لڑکا اور اسکے ساتھ ایک لڑکی اور ایک پہچا اپنی ماں کے گھر ملنے گیا جب ماں نے دیکھا اپنے بیٹے کو اور اس کے سات لڑکی اور اس کے سات پچا ۔خیر وہ اپنے بیٹے اور اس لڑکی کو ملی وہ بہت خوش ہوئی ۔اسں نے اپنے بیٹے سے پوچھا بیٹا تم اتنے دن کہا تے اور کیا کرتے تھے اور یہ لڑکی اور بچا کون ہیں ۔بیٹے نے اپنا حال دیا کے میں یہاں کے جانے کہ بعد میں ایک گاؤں میں گیا وہاں میں ایک رات مسجد میں گزاری اور مولانا صاحب کو اپنا سارا حال دیا کہ میں یتیم ہوں اور  کہ میرے ساتھ ایسا ہؤا ہیں ۔مولانا صاحب نے کہا بیٹا تم یہاں رہ سکتے ہوں مسجد میں پھر میں سارا دن کام کرتا اور اور مولانا صاحب سے قرآن مجید بھی پڑتا ایسے ہی دن گزرتے گئے میں نے حفظ قرآن کر لیا ایک دن مولانا صاحب کی تبیت خراب ہونے کی وجہ سے میں گاؤں والوں جماعت میں نماز پڑھاتا گاؤں ۔کو میں اچا لگنے لگا اور گاؤں والوں نے میرے لیے ایک یتیم لڑکی  سے میری شادی کروا دی ۔اور اب امی میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہیں ۔میری بیوی کے حسے میں جو زمین آئی اس کو کاشت کر رہا ہوں ۔اور میں مسجد امام بھی ہوں ۔ماں اپنے بیٹے کی یہ سب باتیں سن کر بہت خوش ہوئی ۔اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔

No comments

Powered by Blogger.