Mirza Galib Shayri pottery
میری آنکھوں نے ایک عمر خوابوں کی دہلیز پر دستک دی تھی۔
میرے آنسو کسی خواب کی چاہ میں
ہر سمندر کی تہہ میں اُترتے رہے خواب مرتے رہے ۔
میری سوچیں کسی آن کہی آن سنی داستاں کے جزیروں سے خوابوں کے موتی بھی چنتی رہی ۔
خواب بنتی رہیں میری دہلیز پر آن گنت خوش نما دکھ اترتے رہیں خواب مرتے رہیں۔
عمر کی ریل گاڑی بھی چلتی رہیں سانس چلتی رہیں جس پلتی رہیں ۔
آج خوابوں کو دفنایے پورے دو برس ہوگئے
دو برس میں نے ہنس کر گزارے خواب مارے ۔
اج دل کی اوداسی مٹاؤ گی میں
آج خوابوں کی برس مناؤ گی میں
میری آنکھوں نے ایک عمر خوابوں کی دہلیز پر دستک دی تھی۔
Dosto Kasi lagi Gazal Shayari pleez
Comment lazmi kiya Karen.
Agar AP nay apni Shayri post karwani ho to contact kar sakte hi hum AP ki Shayri ya Gazal post kar dain gay .
Free hi sab Kuch .


Post a Comment